ابن ملجم کون تھا ؟

  .  .  . .  . . .  . ابن ملجم کون تھا ؟ ابن ملجم کی حکایت باعث عبرت ہے حضرت علی ع کی ظاہری خلافت کا زمانہ آیا تو حضرت علی ع نے ی...

  .  .  . .  . . .  . ابن ملجم کون تھا ؟







ابن ملجم کی حکایت باعث عبرت ہے حضرت علی ع کی ظاہری خلافت کا زمانہ آیا تو حضرت علی ع نے یمن میں اپنے عامل نمائندے کو خط لکھا اور اس سے درخواست کی لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئے اور آخر میں اس سے چاہا کہ دس لائق ترین اور اپنے معتمد افراد کو ایک خاص کام کے لیے حضرت ع کے پاس بھیجے اس نے سو لوگوں کو منتخب کیا اور پھر ان میں دس لوگوں کو جو سبھی سے اچھے اور افضل تھے انتخاب کیا ان دس لوگوں میں سے ابن ملجم مرادی بھی شامل تھا ہے جب یہ لوگ حضرت علی ع کے پاس پہنچے ابن ملجم جو کہ شجاع فصیح و بلیغ تھا اسکو ان لوگوں نے اپنا سخن گو بنایا تاکہ حضرت ع سے گفتگو کرے اور مدح میں اس نے جو خود شعر کہے تھے وہ پڑھے اسکی تمام باتوں میں ایک بات یہ تھی کہ ہم فخر کرتے ہیں آپ فرمان دیں ہم سب غلامی کریں اور ہماری تلواریں آپ ع کے دشمنوں کے لیے آمادہ ہیں حضرت ع نے بعد میں اسکو اپنے پاس بلایا اور فرمایا تمہارا نام کیا ہے اس نے کہا عبدالرحمن حضرت ع نے کہا تمہارے باپ کا کیا نام ہے
کہا کہ ملجم حضرت ع نے کہا کس قبیلے سے ہو کہا مراد سے پھر حضرت ع نے اس سے تین مرتبہ کہا کیا تم مرادی ہو ؟ کیا تم مرادی ہو ؟ کیا تم مرادی ہو ؟ ابن ملجم نے کہا جی ہاں امیرالمومنین ع
اس وقت حضرت ع نے زبان پر کلمہ ترجعیع جاری کیا "اناللہ وانا الیہ راجعون" ہم خدا ہی کے ہیں اور اسکی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
پھر حضرت ع نے اس سے پوچھا کیا تمہاری دایہ یہودی عورت تھی کہا کہ ہاں جو عورت مجھے دودھ پلاتی تھی ایک یہودی عورت تھی حضرت ع نے فرمایا کہ جب تم روتے تھے تو تمہاری دایہ کہتی تھی اے قاتل شتر صالح سے بد تر ابن ملجم نے کہا جی ہاں ایسا ہی تھا حضرت ع خاموش ہو گئے اور حکم دیا کہ اسکی مہمان نوازی کریں کچھ دنوں بعد ابن ملجم بیمار ہوا چونکہ میں اسکا کوئی متعلق کوئی نہ تھا نو حضرت خود اسکی عیادت اور خدمت کرتے تھے یہاں تک کہ وہ صیح ہو گیا ابن ملجم اس قدر حضرت ع کی محبت کا شیفتہ ہو گیا عرض کیا کہ میں آپ کے پاس سے  نہیں جاؤں گا اور اب یہیں رہوں گا حضرت ع نے فرمایا"اناللہ واناالیہ راجعون" ابن ملجم نے کہا اس آیت پڑھنے سے آپکی مراد کیا ہے؟ حضرت ع نے فرمایا تم میرے قاتل ہو ابن ملجم کو اس بات سے تعجب ہوا اور سوچ رہا تھا کہ حضرت ع کا دوست و محب ہوں لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ خداوند عالم سبھی انسانوں کا امتحان لیتا ہے جو شخص محبت کا دعوای کرتا ہے اسکے اوپر ہزاروں امتحان ہوتے ہیں
ابن ملجم نے اپنا سر پیٹ لیا اور کہا امیرالمومنین ع ابھی اسی وقت مجھے قتل کر دیں تاکہ ایسا حادثہ پیش نہ آئے حضرت ع نے فرمایا تم نے ابھی کوئی کام ایسا انجام نہیں دیا میں کیسے جرم سے پہلے قصاص لوں ابن ملجم صفین و نہروان کی جنگوں میں حضرت علی ع کے قافلے کے  ساتھ ساتھ تھا جب لشکر اسلام نے خوارج پر غلبہ حاصل کیا تو ابن ملجم نے کہا مولا ع اجازت دیں میں آپ سے پہلے کوفہ جاکر آپکی فتخ و کامیابی و خوشخبری کوفہ والوں کو دوں حضرت ع نے کہا تمہارا مقصد اس کام سے کیا ہے ؟ اس نے کہا میں چاہتا ہوں خدا مجھ سے راضی ہو جائے کہ حضرت علی ع کی کامیابی سے لوگوں کو خوشحال کروں حضرت علی ع نے اجازت دی اس نے ایک جھنڈا ہاتھ میں لیا کوفہ کی طرف گیا شہر میں داخل ہوا اور بشارت بشارت کی فریاد شہر میں گونجی اسطرح وہ گلیوں ے گزر رہا تھا کہ قطامہ کے کے گھر کے پاس پہنچا یہ بہت زیادہ خوبصورت حسین جمیل اور دولت مند عورت تھی لیکن بدکار و فحاشہ  عورت تھی جب اس نے فتح کی خبر سنی ابن ملجم کو پکارا تاکہ وہ اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں پوچھے قطامہ اسے اپنے گھر لے گئ عزت و احترام کیا مہمان نوازی کی ابن ملجم پہلی ہی نگاہ میں اسکا عاشق ہو گیا اور اپنے دین و ایمان کو اسکے ہاتھوں میں بیچ دیا قطامہ نے اپنے باپ اور بھائی جو سپاہ خوارج میں سے تھے پوچھا ابن ملجم نے کہا وہ سب جنگ میں ہلاک ہو گئے یہ خبر سنتے ہی وہ رونے لگی ابن ملجم اس خبر کو دینے پر  پیشمان ہوا تھا قطامہ تھوڑی دیر بعد اٹھی اور دوسرے کمرے میں گئ اپنے آپ کو آرائش و زینت سے سنوارا اور واپس آئی اسکو دیکھتے ہی ابن ملجم کا دل لرز گیا
ابن ملجم جو شہوت نفسانی میں اسیر اور اپنے اختیار کو ہاتھ سے دے بیٹھا تھا قطامہ سے خواستگاری کی قطامہ نے کہا اگر مجھے چاہتے ہو تو میرا مہر بہت زیادہ ہے ابن ملجم نے کہا جتنا بھی ہو گا قبول کروں گا قطامہ نے کہا زبادہ ہے کچھ پیسے جوہرات اور مشک عنبر و عطر وغیرہ ابن ملجم نے کہا اسکے علاوہ اور کچھ قطامہ نے کہا بہت سخت پھر وہ  اٹھی اور کمرے سے گئ اور اپنے آپ کو دوسری شکل میں آرائش کی اور واپس آئی ابن ملجم جو جنون کی حد تک پہنچ گیا تھا کہا کہ اور کیا چاہتی ہو ؟
قطامہ نے کہا حضرت علی ع کا قتل ابن ملجم اک دم لرزہ اور پریشان ہوا تھوڑی دیر بعد کہا مشکل ہے ابھی چھوڑو چند دن بعد اس بارے میں فکر کروں گا دوسرے دن ایک قاصد یمن سے ابن ملجم کے  پاس آیا اور کہا تمہارا باپ اور چچا مر گئے ہیں اور تم ان سب کے وارث ہو جاؤ اور اپنے اموال کو جمع کرو ابن ملجم بہت خوش ہوا دل میں سوچ رہا تھا کہ پیسے لے کر قطامہ پر نثار کر دوں گا اس وجہ سے حضرت علی ع کے پاس گیا اور کہا میرے باپ اور چچا کا یمن میں انتقال ہو گیا ہے چاہتا ہوں کہ اپنے قبیلے کی طرف چلا جاؤں آپ اپنے عامل کے پاس یمن میں خط لکھ دیں اور سفارش کریں کہ میراث کے اموال میں جمع آوری میں مدد کرے ابن ملجم یمن کی طرف چلا راستے میں رات ہو گی دور سے آگ کا شعلہ دیکھا اپنے دل میں سوچا کہ نزدیک جائے اور رات کو آگ کے پاس جا کر رہے جب آگ سے نزدیک ہوا اچانک جناتوں نے فریاد کی کہ اسداللہ ع کا قاتل آگیا ابن ملجم ڈرا اور کاپنے لگا جناتوں نے اس پر سنگ باری شروع کر دی وہ وہاں نہ رہ سکا کہ آرام کرے تھکا ماندہ وہاں سے بھاگا اور زحمت سہتا ہوا یمن پہنچا اور خط یمن کے حاکم کو دیا حاکم نے دستخط حضرت علی ع کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا اور جلد از جلد اسکے کام کو پورا کیا ابن ملجم نے اپنے تمام اموال لیے اور خوشی خوشی کوفہ کی طرف چلا لیکن راستے میں ڈاکوؤں نے اسکو روکا اور اسکے لباس اور سواری کے علاوہ تمام اموال لوٹ لیا ابن ملجم جنگل میں سرگرداں تھا لیکن تھوڑی دیر بعد ایک قافلے سے جا ملا اور انکے ساتھ ہمسفر ہو گیا قافلہ میں وہ دو شخص کا دوست ہو گیا ان دونوں کا تعلق خوارج سے تھا ان لوگوں نے کہا ہم نے عہد کیا ہے کہ حضرت علی ع معاویہ و عمروعاص کو قتل کریں گے اس گروہ کا نظریہ تھا کہ یہ تینوں لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سبب ہیں وہ دونوں خوارج مامور ہوئے کہ معاویہ و عمرو عاص کو قتل کریں چنانچہ عبدالرخمن نے قبول کیا کہ وہ حضرت علی ع کو شہید کرے وہ کوفہ پہنچااور سیدھا قطامہ کے گھر گیا یہ فحاشہ اور خود فروش عورت اس کے لیے شراب لائی اور ابن ملجم مست ہوا اور پھر قطامہ کے پاؤں پر گرا اور اسکے وصال کی خواہش کی لیکن قطامہ نے کہا جب تک حضرت علی ع کو شہید نہیں کرو گے تب تک ایسا نہیں ہو سکتا ابن ملجم جو مجنون و پاگل ہو گیا اس نے کہا ابھی جاتا ہوں اور حضرت علی ع کو شہید کرتا ہوں قطامہ نے کہا کہ اس طرح نہیں بلکہ قتل کے لیے مقدمات ضروری ہیں اس نے ابن ملجم کی تلوار لی اور ہزار درہم اسے تیز کرنے کے لیے دیا اور ہزار درہم اسکو تلوار زہر آلود کرنے کے لیے دیا اس رات بدنصیب و بے حیا نے محراب مسجد کوفہ میں مولا علی ع پر وار کیا اور تلوار سے ایسا زخم لگایا اسکے اثر سے دو روز بعد جانشین رسول خدا وصی مصطفی ع شہید ہو گئے

کتاب.مولائی داستانیں
صفحہ.٧٤
مصنف.شہید محراب آیت اللہ دستغیب شیرازی

COMMENTS

Maulana Sayed Baqer Mehdi Abidi

Jaunpur , India
Cont: baqermehdi47@gmail.com 



Name

ahlulbayt,16,books,15,Dua,14,dua newz books worldnewz,7,Editorial Baqer Maehdi,9,events,3,Imam mahdi,4,Islaam,8,islamic rulings,8,Nauha,6,Quran,6,Ramzaan,4,Ramzan,2,salam,2,socialissues,5,Tareekh,9,ulema,4,video,4,worldnews,39,
ltr
item
Almuntazir Jaunpur: ابن ملجم کون تھا ؟
ابن ملجم کون تھا ؟
https://1.bp.blogspot.com/-rga_Ue0pdb8/XOjziP0PD3I/AAAAAAAAGkI/hJ_8RVPjsaIPgHyPhEeLwj_REaQLSLDCQCEwYBhgL/s320/IMG-20190525-WA0013.jpg
https://1.bp.blogspot.com/-rga_Ue0pdb8/XOjziP0PD3I/AAAAAAAAGkI/hJ_8RVPjsaIPgHyPhEeLwj_REaQLSLDCQCEwYBhgL/s72-c/IMG-20190525-WA0013.jpg
Almuntazir Jaunpur
https://www.almuntazir.in/2019/05/blog-post_25.html
https://www.almuntazir.in/
https://www.almuntazir.in/
https://www.almuntazir.in/2019/05/blog-post_25.html
true
6231115075755403545
UTF-8
Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share. STEP 2: Click the link you shared to unlock Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy